🐐🐐🐐🐐🐐🐐 قربانی 🐐🐐🐐🐐🐐🐐 بابا ، بابا ! تِین دِن رہ گئے ہیں قربانی والی عید میں ۔ ہمیں بھی گوشت ملے گا نا ، بابا ! 🐐 ہاں ہاں کیوں نہیں ، بِالکُل ملے گا ۔۔ 🐐 لیکن ، بابا ! پچھلی عید پر تو کسی نے ہمیں گوشت نہیں دیا تھا _ اب تو پورا سال ہو گیا ہے گوشت دیکھے ہوئے _ 🐐 نہیں شازیہ ! اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا_ میری پیاری بیٹی! ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے _ حاجی صاحب قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں اور مولوی صاحب نے بھی تو بکرا لیا ہے _ ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے _ امیر لوگ تو پورے سال گوشت کھاتے رہتے ہیں _ 🐐 آج عیدالاضحٰی پہ مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کو نہیں بھولنا چاہئے ۔۔ ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔ 🐐 شازیہ کا باپ بھی نماز ادا کر کے گھر پھنچ گیا _ 🐐 گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد شازیہ بولی : بابا ! ابھی تک گوشت نہیں آیا - 🐐 بڑی بہن رافعہ بولی : چپ ہو جاٶ شازی، بابا کو تنگ نہ کرو ۔ 🐐 وہ چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا ۔۔ 🐐 کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی : سنیے ، میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ لیے ہیں ، لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا_کہیں بھول تو نہیں گئے ہمارےپڑوسی ہماری طرف گوشت بھجوانا ۔ آپ خود جا کر مانگ لائیں _ 🐐 شازیہ کی ماں ! تمہیں تو پتہ ھے ، آج تک ہم نےکبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا _ اللہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کرے گا۔۔ 🐐 دوپہر گزرنے کے بعد وہ شازیہ کے اصرار پر پہلے حاجی صاحب کے گھر گیا اور بولا :حاجی صاحب! میں آپ کا پڑوسی ہوں _کیا قربانی کا گوشت مل سکتا ہے؟ 🐐 یہ سننا تھا کہ حاجی صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا_ وہ حقارت سے بولے :پتہ نہیں، کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے _ یہ کہتے ہوئے انھوں نے تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔ 🐐 توہین کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو گئے _ وہ بھوجل قدموں سے چل پڑا _ 🐐 راستے میں اس کے قدم مولوی صاحب کے گھر کی طرف اٹھ گئے اور وہاں بھی وہی دستِ سوال ۔ 🐐 مولوی صاحب نے گوشت کی طلب سن کر عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا اور اندر چلے گئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد باہر آۓ اور شاپر اس کے ہاتھ میں تھما کر فوراً اندر چلۓ گئے ، جیسے اس نے گوشت مانگ کر کوئی گناہ کر دیا ہو ۔۔ 🐐 گھر پہنچ کر دیکھا تو شاپر میں صرف ہڈیاں اور چربی تھی ۔۔ 🐐 وہ خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں چلا گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ۔ 🐐 بیوی آئی اور بولی :کوئی بات نہیں ۔۔ آپ غمگین نہ ہوں _میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔۔ 🐐 تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی اور بولی : بابا! ہمیں گوشت نہںں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ویسے بھی _ 🐐 یہ سننا تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، 🐐 لیکن اس وقت رونے والا وہ اکیلا نہیں تھا ۔۔ دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہے تھے۔۔ 🐐 اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئی ، جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا : انور بھائی! دروازہ کھولو _ 🐐 دروازہ کھولا تو اکرم نے تین چار کلو گوشت کا شاپر پکڑا دیا اور بولا : گاؤں سے چھوٹا بھائی قربانی کا گوشت لایا ہے _ یہ رہا آپ لوگوں کا حصہ _ 🐐 خوشی اورتشکر کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اکرم کے لیے دل سے دعا نکلی ۔ 🐐 گوشت کھا کر ابھی فارغ ہی ہوئے تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔ بارش شروع ہو گئی ۔ ساتھ ہی بجلی چلی گئی ۔ 🐐 دوسرے دن بھی بجلی نہیں آئی ۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ ٹرانسفارمر جل گیا ہے ۔ 🐐 تیسرے دن وہ شازیہ کو لے کر باہر آیا تو دیکھا کہ مولوی صاحب اور حاجی صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے، جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے ۔ 🐐 شازیہ بولی : بابا ! کیا ان لوگوں نے کُتوں کے لیے قربانی کی تھی؟ 🐐 وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتا رہ گیا اور مولوی صاحب اور حاجی صاحب نے گردن جھکا لی ۔ 🐐 (منقول) سبق آموز 🌸🌼🌸🌼🌸🌼🌸 🌸KHAWAJAGAN🌸 🌸🌼🌸🌼🌸🌼🌸 🌸 READnSEND🌸 🌸🌼🌸🌼🌸🌼🌸
#khawajagan #readnsend #faisal via Facebook http://ift.tt/2vE1J71
No comments:
Post a Comment